۲۲۲-۲۲۳۲۸۷ - 5
ک2 3 کک 27.2 2 2 دے دا : 2 ہے ہدے آ٥+7ہ ۶ٰ0 فِنْمَخْنْ قَٰی خَبَدوَ منَهْخَنْ٤ : کچھ جس تھا ھت ھا سے 3ھ ان
نت ہت ج0 7 ۲ وہ ں 2 7 ٣ھ ۔ےْ5 ط سے 7 اس کک 2 الله كَانَ عَلُوْرَا دحا ہ2 رََرَة الله الَذِنْتَ 2007 و گی الله المُؤمبِیْنَ
قَذَف ي قُلَوِْهِالّعَبَۂ چس ہہ ہہ مَوَالَشمْ آزضًا لَم فَکُوْمَا و فان الله مل قُ مَئء ریو كا يَآٹھا اللَیُ قُل لِاَزدَاجك اِنْمُنَهَمَ تُرەت فو ۃ اتاد رو کھا الین ا سک و ا ےعار ے عا یلج راکنا دہ او رَسُوْلَه و الذاز الأاخِرة فَإِنَ الله کو 9ر
ىَُ بقَاحِمَةٌ تمہت ا م 27 ۳ و قَاتَ ذٰلِكَ عَل اللہ ینا 2ر من بَِقَنْت
5
یں ۱ 2ہ سم ے2 ےم اد ۔ جو ےم صیہد ٍ ۱٦ے ە سم نک يِلَّهِوَ رَمُوْيِهۃ تَعَمَل صاحا نَوَيَھا اجَرما متن دا عُمَدْتا لها رِزْقَا ََرِيْنًا لِ ييْمَاء 27 * تم اد ممتءٌفل ہہ ےو پر التَبي لسن 5ح غِن الیْمَآءان الَقيْتمٌفََ ۱ تع بالْقَولِ فََحْمَعّ الَذِیْ قَلے ,ھ04"
کے گے دود کے کے ہے ئوہ و فجن ینڑے 5ے ڑھ0ھ0 0ئ قوْلا مَعِدْفا رق و قزر ق بْيْوْتِکنَ وَلَاتَنََْن ت کا ھامت د ول کے اھَلڈو اس ٤ عالنٌکوۃڈ
: : ےط 2 0 2 رین الله لِؤِذْجبَ عَنکْر الج ٥ َخْل الْمَيْتِوَيُكَهْرًً تَطَهِيرا جو0
26 2 و0 2 اذْکُزتَ سا یغل نے لِيوتِکكُمَ من ایت اللہِۃَامَْكَمَةٴَ ان الله کَانَ لَطِیْفًا عَبِيْرَا 2 ١ الَْيِمنَء
سیلدت و المُؤميِینَ وَ المُؤملٰتِ و الَقَيِتِینَ وَ الَقَیمتِ و الضْدِقِیْنَ ة الضیقتِ و الضِبِرِیْكَ دَ الضہِزتِ الٰضِعِیَْ و الٰضٍهت و الْمَمَصَِقِیَْ وَ الْمَمَصَیِقتِة الضَآَيِمِیْنَ ة الط ہلت ة الفِطِیَْ فُووْجَعمْو الوِظتِ و الذكِريت اللَكکمْيْداؤالزگرتِ اَعَزَاللهْتَمَْْنْف َهٌرَآجراعظھايق
امن لانے والوں یں اییے لوگ موجود ہیں جنہوں نے الد سے کیے ہو عم ہکو س اکر دکھا اہے۔ ان شش س ےکوی ايٹی نذر پر کر چکااو کوک وفت آن کا خنظرہے شےانہوں نے اپنے روبے می سکوکی تد بی فی سکی۔(یہ سب بھھ اس لیے ہو۱) امہ الڈد چو ںکوا نکی سال یکی جتزادے اور منافقو ںکوچاے نو سزادے اور چاے وا نکی وہہ قو لکر نے ؛ بے کیک الد خقور و رجیم ہے۔
این ےکفا رکا منہ یبر دیاء و ہکوگی فائد و حاصمل سے اق اپنے د لکی مان لیے بو ٹچی لٹ گے ء اور موی نکی طرف سے اللد ہی لڑنے کے می ےکا کی ہو میا ال نکی قوت والا اور زیر دست ہے را لکتاب میں سے جن لوگوں نے ان عمل ہک ورو ںکیاساھ دیاخھاشء ایند ا نک یگ حجیول سے انیس امجار لایااور ان کے دلوں می ال نے الیاڑ عب ڈالی دیاک ہآ ان شیل سے ای کگر و ہکوٹ مق لکررے ہو اود دوسر ےگرودکوقی دکررہے ہو
این ت مک ا کی زین اور ان کےکصرول اور ان کے اموا لکاوارت بنادیااور دہ عطاقہ ہیں دیا ھے تم نے مھھی پامال ن کی تھا الل ہزیر قادر ہے۔ اے نی ١ا تی یی یوں کو اگ تم دنیااور ا کی زیت چاہتی ہو 1نو میس شمہیں پچھھ وے ول اکر لہ طر یق سے ر خر تک دو۔ اود گر تم اللہ اور اس کے رسولح اور دارِ خر کی طالب ہو نے جان ا وکہ تم یس سے جو تیلوکار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اج می اکر رکھاے ت* کی وید تم ید دے جوکسی ص رخف ح رک تکا رجا بر ےگ اسے ددہراعذ اب دیاجاۓ گا شک ایل کے لیے بہت آسما نکام سے مم اورتم ٹس سے جو الد اور اس کے رسو کی اطاع کر ےکی اور خیک عم لکھر ےکی ا ںکو ہم دوہ راج دیں گے شنڈاور پھر نے اس کے لیے رزن ۷ریم میا
گر رکھاے۔ کی ہیدہ تم عام عورنو کی طر نیس ہو گر تم اوٹد سے ڈرنے والی ہو و دلی فان سے بات نہک اکر کہ و لک خ ال یکا مت اکوئی تس لام یس پا جاےء لہ صاف سی رع با کروی ےگھرون می کی ںکزرہو شور سای ذو ابی تک انا دجن کال پکر انا زوام تر رون اف زان کر مو کی اطاع کرو
ال يہ چابتا ےکہ ائل ببیت نس ےگندگ کو دو رککرے اود میں پواری رپا ککر دے نأ یاد رکھو ال' کی آیات اور حم تک پانو ںکو جو تمہارےگھروں میں سناکی انی ہیں پش بے نک اللاطیف اور باخجر ہے
ت تج مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں ھتہ موشن ہیں ششہ مج فرمان ہیں گ2 راست پاز ہیں ک .2 کے مس یں شصدرقہ دنن والے ہیں لے روز رتے نے یں نأ ء پیش رمگاہو ںکی حفاخق تکرنے وانے ہیں کے" ےم ےنت گی شتأء اور الد نے الع کے لیے مخفرت اور بڑا اج میاکر رکھاسے ھ5
مور النکخڑاب حاشیہ بر:٭۳۹
)۳۹٣( میپن یکوکی ال کی راوس جان دے چکاسے او رکوٹی اس کے لیے تار ےکمہ وف ت آآے فو اس کے دی نکی خحاطر اپنے خو نک نذ ران یی کر 2
مرَڈالکشراب حاشیہ بر:٭م
(كم۴) میچیہددبی قرط۔
سُورَڈالاخرپ حعاشیہ مب ر: رگ
(۱م) یہاں سے نہر ۵ اج کک آیات جنگ از اب اور بی ٹر سے ضتعمل زہانے میں نازل ہوگی تھیں_ ا نکا ہیں منظ رہم دیپاجہ میس من ر1 با نکر نے ہیں کجج مسلم میں حضرت جابر بن عبد اللہ ال زمال ےکا رہ واقعہ بی نكرتے ہی کہ لیک روز ححضرت ال ھب اور ححضرت عم تضو کی خدمت میں حاضر ہو اور دیک کہ آ پک ازواج ا ک ےگرد یھی ہیں اور آ سپ خاموش ہیں۔ آ پچ نے حخرت عح کو خطا بک کے فرمایا: حفرت عررگو خطا بکر کے فرمایا: فو کما تی بنا لی النذطہ“ ىہ مہر ےگردجیٹھی ہیں ججی اکہ تم د سپ رہے ہو۔ یہ مھ سے خر کے لے دو یی اگنگ د ہی ہیں“ انس پر دونوں صاجول نے ایق ایق ٠ ڈیو ںکوڈانا اوران سےکہاکہ تم ر سول ال علیہ و س٥ مکو تن کک رتی ہو اود وہچی اگئی ہوجو آ ا کے پا نھیں ے۔ اس واقعہ سے معلوم ہو ما ےکہ ور اس وق تکیی ملی مشولات می بنا تے او رکف رد اسلا مکی انڑائی شی مشش کے زمانے شش خر نے کے تھا تھے ران مارک پ کیا اش ڈالل ر سے تے-
مورَڈالکخراب عاشیہ بر:42
22 اس آیت کے زول کے وقت جو کے متا یں ار جو یں یں حظرت حو دم حضرت حذ اور ظرت ام صظ بھی حطرت زین ب سے جضو کا با نیس ہوا تھا۔ (احکام لابین الع بی شع م۱۹۵۸ عیسو ىیء جل ر۳ ص۱۳ ۱۵۱۲)۔
جب بہ آیت نازل ہہوگی تی نے سب سے پیلے حضرت عائنشڑ ےکن کی اور فربایا” بس تم سے ایک با تهکت ہوں جو اب دی بس ججل کی نہ کرناہ اپ والدی نکی راۓ نے لوہ پچھر فیصل کرو“ پر جضمور نے ا نکو بتا کہ الد تال کی رف سے ہی عم آیاہے اود مہ آیت ا نکوسنادی۔ انھول نے ع رخ سکیا ” کمیااس محامل کو یل اپنے والد بن سے لپ بچھوں ؟ بیس و الد اور اس کے سو اور دار خر کو چاہتقی ہہوں۔ “ اس کے بعد حضمور بائی ازواع مطرات بل سے ایک ایک سے می بات فربائ یہ ادد ہر ایک نے دب جو اب دیاجھ حطرت عائکشڑنے دیا تھا مند اص ء مسلم ء ضائی) ِصطاائ میں ا سک وت رسکی ہیں ,می بیو یکو اس اھ رکا خقیار دیناہکہ دوش ہر کے سساتحد رے اس سے مد اہو جانے کے د میا نکی ایک چک خود فیصل کر نے۔ یہ تیب نی صلی اولد علیہ و سلم پر واجب شی کیو ںکہ الد تی نے ا س کا حضمو کو حم دیاتھا۔ اکر ازواج مہ رات میس س ےکوی اون عو دک یکاپبلو اخقیا رکر تل ن ےآ سے آپ جدانہ ہو جا تی بللہ جو1 کے جد اکرنے سے ہو یں جج اک آیت کے الفاظ ” 7یس یں پھر رے وا اکر چھلے طرشکقے سے رخص کر ووں “ سے اہر ہوم ہے لیکن حور پر ىہ واجب تھاکہ انل صوررت میں ا کو جد اکر دی ءکیو کہ ٹ یکا حیثیت سے آ پکابہ منصب نہ تھاکہ اینادعدہپوارانہ فرماتے۔ جداہو جانے کے بعد بظاہر بی معلوم ہوا ےکہ وہ بات الم سن کے زمرے سے مار ہو چاقی اوران می دوسرے مسلما نکا مکاح رام نہ ہو تا کیو يک دہ ڈ تیاور ا کی ز ینت بی کے یے تو مولي اک سے می گی اغقیار
کر یں ج س کان انی دیاگیاتھاء اور ظاہر ےکہ ا نکا یہ مققمد مکاح سے حروم ہو جان ےکی صورت میس پورانہ ہو تا تھا۔ دوس ری طر ف آی تکاننا ب بھی معلوم ہوا ےکہ مجن ازواع نے الد اود اس کے ر سو اور دای آخر تکوپپن کر لیاا یی طلاقی دہی ےکا اختیار جو کے لیے باقی نہر ہاہکیوں کت ر کے دودی پاپلوتے۔ ایک کہ د کو اختیا رکر نی ہو میں اکر دماجائۓے۔ دورے ب کہ الد اود اس کے رسو اور دا آخر تکواخظتبار ری ہوق ہیں جدان ہکیاجاۓے۔ اب ظاہرےکہ ان یل سے جو پل ھپھ یکوکی او نکر نی ان کے جن بیس دوس راپبل و آپ سے آپ ممنو ہو اتا تھا
اسلائی فقہ بیس تیر دراصل تفولینل طلا ققکی حخقت بر یٰے ۔ ]نی وہر اس ذد بعد سے بیو یکو اختیار دے دبا ےک چا اس کے ناش ر ہے ودنہ الگ ہو جائے۔ انس متلہ بی ھچ و ےھ و اض
ا۔ بیہ انار ایک دفعہ عور تکو دے دینے کے بعر شوہرٹ لے وائیں نے سلتا سے اور نہ عور تکو اس کے استعال سے روک تا ے۔ البنہ عورت کے لیے یہ لازم نیس س ےک دہ اس اخقیا کو اتال ب یکھرے۔ دہ چاسے فو شوہ ر کے ساتھھ ربے پر رضا منع گیا ظاہ رک دے ء چاے ملہج دک یکااعلان کردے اود چاے ٹوکسی چچڑ کا اظہارنہککرے اود اس اختیا رکواول بی ضائح ہو جانے رے-
٢ اس افقیار کے عور تکی طرف شنفل ہو نے کے لیے دوش خی ہیں الڈل م کہ شوہرنے پا نذا سے ص رہ الطاظ میس طلائ کا اختیار دیا×ءیا اگمر طلا قکی تص رج نکی ہو یھر ا سکی نیت یہ اخقیار دی ےکی ہو۔ نا اگر وہ کے ” گے اخقیار ے“ ا تیرامحاملہ تیرے ہاتھ میں ے۔ “نواس ط رح کےکنایات یں شوہ رکی نیت کے بغی رطلا کا اختیار عورر تکی طرف شف نہ ہوگا۔ اگرعورست ال کا د عو کرے اور شو ہر بحلف بہ بیالن دے کہ ا لکی نیت طلا یکا اغتیار دی ےکی نہ شی نو شوہ رکا بان تو لکیاجاۓ گا۔ لا کہ عوارت اس اع کی شہادت ٹن یکر د کہ مہ الفاط نا چاق اور بھکھڑ ےکی حاات بیس ء یا طلا کی باخ" کرت ہو ۓ سے گئے حے کیو کہ اس سیاقی دسا یس اختار دہینے کے می میا بے سجایں ک کہ شوہر کی نیت طلا یکا اخیار دنی ےکی تی۔۔ دم کہ عور تکو معلوم ہ کہ یہ اخقیار اسے داگیاہے۔ گر وہ غاب ہو وأ سے ا کی اطلاع مفی چاہیے ء اور اکر موجودہو تو اسے ہہ الفاط نے چا یں ج ب کک دو نیہ یا اسے ا سکی خمرنہ پچے اخقیار ا سکی طرف مل نہ ہوگا۔
۰ اگ شوہ رکابی وق کی تین کے اغیر مطاقً ا سکو اخخیار دے نے عورت اس اخقیا روک ب کیک استتعا لک سکتی سے؟ اس مکہ میں فتباء کے در میان اختلاف ے۔ ای کگرو ہنا ےک جس پشست میں شو ہراس سے ہہ بات کے أسی مشست میں عورت اپنااخقیار اتا لک سلتقی ے او کو جواب دئے ادا ے اُٹھ جائےءیا کی ای ےکام میس مشفول جو جاے جھ اس لت پر دم تک اب دک دوجواب نیس دی چاقِ ءواں اقیار باضل ہو جا ےگا یہ راے حقرت عو ححضرت عثاع حضرت این مسحوٹاء ححضرت چان عمبد الڈر رین یلد ءعطامء اہر بی ھی ء ایام انف امام ماک امام ابو عفیضہء امام شاضقیء ام اوزاگیء سفیا نفوریی اور افو رکی ہے۔ دوس رکی راۓ مہ ےکہ ا کا اخقیار اس لش تک مرود نیس ےبلم وہ اس کے بعد بھی اسے استتعا لک تی ہے یہ راۓ حضرت شن بص ری * اد اورڈ ریکی٤ے۔
٦٠۴ اگ رشوہرو دق تکی نمی نکر دےء ما کہ ایک مین یا الیک سا لکک تھے اخقنیارہے یاا تا تکک تی رامعاملہ تیرے اتد بیس سے نو بے اظیار ای تک ا لکو عاصل رسے گا۔ البتہ اگر دوک ےکہ فو جب چاے اس افتیا کو استعا لک سکتی ہے فذ اس صورت ٹیل ا کا اخقیار غیر محرودہوگا_
۵- عورت گر عث گی اخقیا کر نااے و سے وا اور شی الفاظط بیس ا لکااظہا ہک ناچابیے۔ مہم الفاطا جن سے ظعادا شع نہ ہو تاہوہ مو نہیں ہوسکتے۔
٦۔ تافو ]شوہ رکی طرف سے عور تکو اخقیار دسینے کے خین صینے ہو کت یں۔ ایک ب یہہ وہ سیے ” تیرامحاللہ جیرے پاقھ میں ے۔“ دوسرے کہ وہ کیچ ”تھے افختیارہے “ تسرے ی کہ دو سی ” تھے طلاق ہے اکم فو چاہے۔“ ان بیس سے ہیک کے اون ضا انگ الگ ہیں : الف۔” تجیرامعاممہ تی رے پاتھ میں ے“ کے الفماظہ اکر شوہرنے سیے ول اور عورت الس کے جو اب تی لکوکی صص رت بات المکی سے جس سے ظاہ ر ہو کہ دہ یج گی اخقیا رک کی ے فو عیذہ کے زد کیک ایک طلاقی ہائن پڑ جال ۓگیلش]ڑئی انس کے بعد شوہ کور جو کاطی نہ وگاء لان عم گزد جانے پر دونوں پھر چاڑیں فو ہام وا ںکر کت ہیں )۔ اور ار شوہرن ےکہاہ کہ ” ایک طلا یکی حدکک تیر امعامطہ تیرے ہاتھ میس سے “ فو اس صورت میں الیک طلاقی رجتی پڑ ےگی( معن عزت کے اندر شوہررجو خحکرسکتامے )لین اگر شوہرنے معاملہ عورت کے ہاتھ مس دینے ہے تین طلاق نکی نی تکی ہوہ یا سک فص رت کی ہو فو اس صصورت میں عور تکا اختیار طلاقی بھ یکا م معن ہگ خ اود لص ر احت اپنے اور تحان طلاق دا دکرے باصرف الیک ہار ےکہ یں نے می رگ اختیا رکی یااپنے آ پکوطلاقی دی-
ب۔ ” تھے اغیار سے“ کے الفاطا کے سات اکر شوہر نے عور کو خی دک یکا اختیار دیاہو اور عورت مخ گی اختیا رک رن ےکی تص رت کر دے تو علیذہ کے نز ویک ابیک ہی طلاق پائن پڑ ےگ خو اہ شوہ رکی نیت تین طلا قکادبی ےکی ہو البنہ اگ شوہ رکی طرف سے حین طلا کا ختیار دی ےکی تص رج ہو جب عورت کے اغقیار طلاقی سے تین طلاقیں دانع ہو ںگی۔ امام شاف کے نزدیک اکر وہر نے ا ار دپتنے ہے طلا کی نی تک ہو اور عورت ری اختیادککرے آذ اسیک طلاقی ر تی دا ہ گی۔ امام ما سے نزدریک مد خولہ جیویی پر تن طلا یں پڑ کی ںی لیکن اگ خی مد خولہ کے معاممہ یش شوہ ایک طلا قکی نی ت کا دع ککرے فو اسے قجو يک لیاجا ےگا
جع تھے طلاقی سے اگر تو چاے “ کی ےکی صورت میں اگر عورت طلاق کا اخقیار استعا لککرے تو طلاقی رج ہو گی ن کہ بائن۔ ے۔ اگر مر دی طرفے یح دک یکا اخخیار د نے جانے کے اعد عورت اک کی بی گی ب نکر رت پر ہق رضا منعد کی ظاہ کر دے وکوگی طلاق دح شہ ہو گی۔ بجی رائۓ حر ت عر مضرت عبد ارڈ بین مستوڈء حضرت مائشض ظرت الد اللد ر دا این عپا ا ء اور این عم کی سے اور ای رات ۓکوچمہور فقباء نے ایا رکیاے۔ حظرت عائکشڑسے مسروقی نے ہ متلہ در یاف کیا ا نہوں نے جو اب دیا: خی رر ول اد صلی اللد علیہ وسلم نساءرہفا خرن لان کک طلا "نر سول اوند صی الل علیہ و لم نے اپ بیو ںکو اختیار دی خھااور انہوں نے جضوربی کے ساتقعھ ہنا ین دک لیا تھاء تی رکیا ا سے طلاقی شا رکیا گیا ؟ اس معاممہ یل صرف حظضرت اود زیڑبن شاب تکی یہ را منقول ہوگی ےکہ ایک طلاقی رج وا شع ہوگی. لیکن دوس کی ردایت ان دوٹوں ہز رگوں سے بھی بی ےک ہکوکی طلاق دح نہ ہ وگی۔
مورَڈالکشراب عاشیہ ر:43
(۴۳)۔ ا سکاب مطلب نئیں ےکہ فحوذ بادڈد بی صلی الد علیہ و سم کی ازواج مم ات ےکی شش ورک تکااندبیشہ تھا بللہ ا سے مقصود مضور کی ازواا کو یہ احساس د لان تھاکمہ اسسلا ئی ماش رے میں اا نکامتقام جس رر بلند ہے ای کے لھاط سے ال نکیا ذنشہ داریاں بھی بت سخت ہیں٢ اس لیے ان کا اخلاقی ری انچائی اکیزہ ہو ناچا ہے ۔ یہ ایمادی سے جیسے بی صلی ال علیہ وس مکوخطا بکرتے ہو اید قالی فرماجاے لن )کت شی تی ,”اگ تم نے شر ککماتھہاراس بک اکر ایابربادہو جات گا“ (الزمر۔آیت )٦۵ ا سکابہ مطلب یں ےک معاذادلد تضوڑ سے ش ر ککا کوک اندبیشہ تمہ بللہ اس سے مقصود جضو کو اور آ پگ کے واسطہ سے عام انسانو لکو ہہ ا ساس دلانا ھاکہ ش ر ککتظاخط ناک جرم سے جس سے سحخت
اکر رازم سب
21
مورَڈالکشراب حاشیہ ہر:44 (م)۔ یجن تم اس بھھلادے میس نر ناک ٹ کی یویاں ہونا ہیں اد کی جکڑ سے ہیا ساےہ یا تمہارے مر سے بکھ اسیسے جن ہی کہ نکی وجہ سے میں پاڑنے میں الد رکوکوئی دشواری ٹیی اعت ے۔ مو رَڈالشماب حاشی بر:45 (۳۵) ۔گنادیر ددہرے عط اب اود مگ پر دوہرے اہ رکی دج یی سےکہ جن لوگو ںکو الد تعالٰی انسانی معاشرے می سکسی بلنلد مرح پر صرفراز فرماتا سے وہ پا لوم لوگوں کے و جنمابجن حجاتے ہیں اور ہن رگا خد اکی بی تد اد لاگ اور ٹر لی می ان یکی یرد کی ہے۔ ا نکی مھ کی تما اٹ کی ٹر ای نیس ہو کی بکنہ ایک قوم کے پگائڑکی موجب بھی ہوکٹی ہے اور ا نکی ببھلاگی صرف ان یکی انف رادی بھلاکی نیس ہوکی بلہ بہت سے انسانو ںکی فلا ںکا سبب بھی تی ہے۔ اس لیے جب ود مر ےکا مکرتے نی نے اپنے مگاڑ کے سا تفع دوس روںل کے گا ڑکی بھی سزاباتے ہیں اود جب دہ نی ککا مکرتے ہیں قوانڑیں اپقی مکی کے ساتھ اس با کی جنزا بھی مت ےک انہوں نے دو رو ںکوبھلائ کی راد دکھائی۔ اس آیت سے بہ اصول بھی تا ےکہ جہاں شعن ہد گی آورنشن ماد ئن کی تح 4 کیہ دن اٹ رز ما ہن ت مث اور ار مطکاب خیاختکا جم شد دہ گا اور ای قد رزیادہ ا سںکاعذ اب ہ وگا۔ مناا مسر میں شر اب پا ا ےگھم یس تر سک لت رھ وہ کی سزازیادومخت ے۔ محزمات سے ز اکنا خی ر عورت سے نکی بہ نسبت اشن سے اود اسر زیادہ خقت عط اب ہو گا۔ مورَڈ الا شاب حاشیہ بر :46 (۳)۔ بیہاں سے آخ چپ اکر ا فک کک آبیات دہہیں مجن سے اسلام شی پر دے کے اکا مکا آغاز ہو اہے۔ ان آیات ٹیس خخطاب نی صلی الیل علیہ و سل مکی جیویوں ےک امیا ےگ ر مقصود قام مسلما نگصروں میں ان اصلاحا تکوناف کر ناہے۔ ازواج معلچم ام کو خاط کر ےکی خ رض صرف یہ سےکہ جب بھی صلی اللد علیہ و صلم س ےھ سے اس پاکیزہ ط رز ن دگ یکی اب ا وگی فو باقی سارے مسلما نگھرانو ںکی خو تین خو دا کی تی دک یی گی ءکیدککہ ھ یگھ مان کے لیے ون ہکی حیشیت رکتا تھا ینس لوگ صرف اس بفیاد پ کہ الن آیال تکا خطاب نمی صلی الد علیہ و مل مکی ادا مم رات سے ہے ء یہ دعوئ یکر یھ ہی کہ یہ احکام انی کے لیے خاص ہیں۔ لان کے ان آیات مل جوبجھ فرما یا یاسے اسے پڑ ھکر د کچھ مچیتے۔ کوٹی بات ای ے جو حضمو کی ازوارع کے لیے اص ہو اور ہاقی مسلمان عورفوں کے لیے مطلوب نہ ہو ؟ کیا اللہ تال یکا ذشایچی ہہو سکنات کہ صرف ازواج “لمات پ گن دگی سے پاک ہولء اود دتی اد ور سو کی اطاح تک میں اددودی نماز یں ڑعیس اور زکانودمی؟اگر یہ فظا نہیں ہو سلتا پھر گھروں میں بین سے جیے اور جرح جاہلیت سے پر ہی زکرنے اور غیبر مر دوں کے ساتھ دیز پان سے بات نہکر ن ےکا عم ان کے لے کیسے ناس ہ سکتاے اور باقی مسلمان عورتیں اس سے مض کے ہوستی ہیں : ک اکوگی متقول ول ابی سے نم سکی ہنا لیک بی سلسل کلام کے وج اکا میس ے ہت سکوعام اور بن سکونماص قراد دیاجائے ؟ افش کت ام ور ںک طر نی ہو“ ول ےم بی مطلب نی عم مور کون ش نک پان چاے ےد خی مردول سے خوب اود کی ہاج کرک چا ئییں' الہ تم ایا طز عمل اختار کرو بلکہ اس کے ب رحس یہ طرزکلام یھ اس طر کی یی ایک ش رین فآ دی اپنے چے س ےکا ےک ” خ بی ں گال نہبجنی چا ہے۔“ اس ےکوئی عفن د دی بھ یسنہ وال ےکا ىہ فعااغخذن ہر ےگاکہ دہ صرف اپنے چے کے لے مگامیاں کے کور ا ججتتاے ء دو سرے چوں ٹیل بہ عیب موجو در سے و اسے اس پ کو کی احھتزرا نییں ے۔
2,1
مورَڈالکخراب حاشیہ بر:47
(ے۳)۔ میتی ضرورت می آنےی کی مردے با ترنے میس مضائقہ غڑیں ے لیکن ای موا پرعور تکا چیہ اور اندا کو ایماہوناجا ہے سے پا کرتنے وانے مردکے ویش مھی ہی خی کک نہگزد گ کہا عورت س ےکوی اور وت بھی رک چا ہے۔ اس کے لچ می کوگی لوج نہ ہوء أ سکی پاتوں می سکوکی لکاوٹ شہ ہو أ سکی ہیس ات لوف حر ھت تھی کردے اور اسے آکے قلدم بڑھان کی نت ولا ہے۔ اس طر گنو کے متلق اللہ تعالی ؟صاف فربا تا ےکلہ ب ہک ایی عور تکوز یب نیس دیتا جس کے ول میں خد اکا خوف اور بد کیا سے پر ہی زکاجز ہہ ہو۔ دو صرے الفاظ میس مہ فاسنقات وفابر ال تکا کلام سے ن کہ مو منات متحقیا تکا بای کے ساتھ اگ شور نو رکی دہ آبیت کی دھی جاۓ جس اللہ تال فراج سے و شرب پ ری لیم می من تق (اورزشن پر اس طرح پاں مار تی ہوک نہ جو کہ جو زیت انہوں نے چا رکھی سے ا سکاعلم لوگو ںکوہو)تذ رٹ اشنم نکا صاف منشا رہ معلوم ہوا ےکمہ عور یں خواہ فاہاپقی آوازیااپنے زیورو ںکی ھکار خی ر مردو ںکونہ سنائیں اور اگ اض رورت اجنببوں سے بولناپڑ جا و رکی ایاط کے سا ت ہام کم میں۔ ای بنا پر عورت کے لیے اذا دینا ممنوع ہے۔ یاگر نماز با اعت می سکوئی عورت موجود ہو اور دا مکوگی خلش یکمرے فو مردکی مر ان ا کن ےکی سے اجازت نی ہے بللہ ان سکو صرف ہاھ ید ہاتحدما رک آواز پیداکرٹی چا بے ماک امام نیہ ہو جائۓے۔
اب یہ ذراس ہن ےک بات ےک جو دین عور تکو یر مردے با تکرتے ہو ۓ بھی لوج دار اندا یکو اخ کن ےکی احجازت نیل دبااور اے ھمردوں کے سامئے با ضرورت آواز با لئے سے بھی ر وکا سے مکیادہ بھی ا لکوپپن کر مکنا ےک عورت ا مپبہ الک گا اہے ء جھ کے بھاے بتتاے اور ناز ونخزے وکا ؟اکیادہ ا کی اجازت دے سلا ےکہر ڈور عورت عاشنان ہگیت گگانے اور سر لے نخموں کے سما تید شش مضائین خنا ناکرا وگوں کے جن بات یل لگ لگا ے ؟کیاوداسے جائتز رکھ سنا ےک عور یں ڈراموں میں مچھ یکس یکی بیو ئی او ربج یکس یکی متوق ہکاپارٹ ادا میں ؟ یا ائی میا حرہ 6تت یکن و ان امن تکازن ا یت ےج ے ؟ یاکگہوں اور اچا گی تقیبات او وط الس میں بن شھ نکر آجیں اور مر دوں سے تو بکھل م کر بات چیت اود سی نا کرس ؟ یم رخ رکس ت ق رن سے ب رآمد کیاکئی سے ؟ خداکااز لک دو ق رن ق سب کے سا نے ہے_ اس مین ںگہیں ا سک رک یکنائش نظ رہ ہو قذ اس مقا مکی نشان دج یکر دی جائے-
مو رَڈال شراب حاشیہ ر:48
(۸٢)۔ اصل میس افط رن استعال ہو ارہے۔ ہن ایل لت نے ا سکو ”قرار“ سے ماخ ذ بنا اے او رین نے ” وار“ سے۔ اگ را سکو قرارے لیا جائۓ نمی ہوں گے" قرارپلگڑ و“ ”کیک رہ و“ اور اگر وتقارسے لیا جاۓ وذ مطلب ہوگا” سکونع سے رہ و ” جن ے ٹیٹھو“_ ووتوں صورتؤں ین ریت فخابہ ےک عور ت کا اصل دائرو شمل ا سکیاگھ ہے ہ أ کو اسی دائڑے میں ہک اظینان کے ساتھ اپنے خر ال امام د ین چا یں ء اورگھرے پاہر صرف لبضررورت بی انا چابیے۔ یہ نشاخودآیت کے الفاظط سے بھی ظاہر سے اور نی صلی الد علیہ و سل مکی احادیث الکو اور زیاد+د ان٤ کم د تح ہیں۔حافظ ا ھجک تار ححقرت ال سے رواب کرت ہی ںکہ عورخوں نے تمومڑے ع رخ سک یاکہ ساری فحضیلت ےم نواٹ لے گے ٤وہ چماد کرت ہیں اود خحد ای راہ یش بڑے بڑ ےکا مکرتے ہیں۔ ک مکیا فم لکری کہ جمئیں بھی میابدرین کے باب اج بل سے ؟ جو اب یس فرما باصن قعرت منکن نی بیتھ فان رک مل ال این جوتم میس ےگھ میس جیٹ گی دہ میاہدرن کے کم لکو پان ےگی “۔ مطلب مہ ہے کہ ماہد ول جمتی کے ساد ای وت نو خد اکی راہ یں لڑ سے مہ سے اپنےگع کی طرف سے پوراا ینان ہوء ال كسغٰ سک1 گرورڈ ل(رخی بآ مور اس ےکوئی خطرداس ام رانہہ ھکہ بے و کو گی للا پیش کی۔ یہ ا ینان جو عورت اسے فراہ مکر ےکی دوک ربیٹے اس کے چاد یس برارکی حضہ دار
ب گیا یک اود ردایت جو ہار اور تر نے حطر عبد اول بن مسحویڑسے تق لکی ہے اس میں وو نی صلی الد علیہ و صل امہ ا شناد ہا نکمرتے ہیں کہ ان ال رآ عور ةفاذ اخرجت امش ھا الشيطان وا قرب مامگون بروحۃ رپوا وج نی قع رمیتوا_” عورت مسقور رب کے تقائل چیزسے۔ جب وو لنتی سے خیطان ا لکوت کا ہے۔ اور ا یر حمت سے قریب تردہ اس وشت ہوثی سے لہ ہا ےگھمرمیں ہو “۔(عزید تق رس کے لیے ملاحظہ ہتخیر مورٗلور حاش, )٦۹
ق رن ید کے اس صاف اور ص رج عح مکی موجودگی میں اس با کی آخ رکیاگنیاکنشی ےہ مسلران عور تی ںکونسلوں اور پا رنیمنٹو ںکی محب ہیں ء رون خان کی سوشل س رگ میوں میں وڈ بچھ ریہ سرکناریی دفتزوں میں مردوں کے سات رکا مک میں بکالیچوں میں لکوں کے سانتق تیم ہیں ء مردانہ ہہ پتزاللوں یں خرس کک خد مت امچام دبی ہوا چھازوں اود ری لکاروں یں ” مسا فرٹوازی“ کے لیے امتعا لکی جائیں ء او رنیم وت ببیت کے لیے ام ریہ والکستان میگی جچاکیں عورت کے بی روا خانہ س مگ میوں کے جو از میس بڑی سے بڑکی ول جو می ںکی جائی سے وی ےک ححضرت عائڑڑنے جنگ چل میں حعنہ لی تھا۔ لین يہ ان لال جو لوگ بی یکرت ہیں ا نہیں شا ید معلوم نویس ےہ خود ححضرت عائنیٹ ا اپناخنیال اس ہاب یی نکیاففا نپا ین اخزن تخل نے دا الد لہ اوران ارہ این ای شی اوران ضسع تے اي کناون یس رو نکی روی ٹ لف لک ےک مضرت عائکش جب حلاوت ق رآلن کرتے ہوئے اس ںآ یت لاعف یگ )بر یی یں نو بے اختیاررویڈڑتی یس یہا ںکک کیہ ا کا دویٹہ پیک جات تھاءکی وکلہ اس پر انی ارنی دہ شی با آجائی شی جو آن سے چتک مل میں ہوگی تھی
مو رَڈ الا شاب عاشیہ بر:49
(۳۹)۔ اس آیت می دو اہم الفاظ استعال سے گے ہیں مج نکا بنا ایت کے مطش اک یلننے کے لیے ضروری ہے ایک رح ' دوسرے چاہلیت اویٰ۔
تڑ جع کے می ع راز ان می نمایاں ہونے “ اجھرنے او کن لکرسات ےآ نے کے ہیں۔ ہر ظاہرادد معز زکے لیے عرب لفظ” برع“ استعوال کرت ہیں ” بر ج“ کو ”رج اس کے نبور و ار تھا کی باب یکہاجاتاہے۔ بادہانی تی کے لیے ”ہار جہ“ کالفظ امی لے ولا اتا ہ ےکمہ اس کے باد پان دور سے ہمایال ہد تے ہیں۔ معحورت کے لیے جب لف تح استعا لکیا جا فذ اس کے تین مطلب ہو گے۔ یک ب ہک دہ اپنے چرے او رم تما ن لو یک کان وو ہے وہ اپنے لپاس اور زا رک ان دوسروں کے ساستئے تما لکرے۔ تیسرے ب ہک دہ ایق سال ڈھال اور چک ملک سے اپنے آ پک نمایا ںکھرے۔ بپی تق رج اگل کاب ا ل لت اور اکابر مفس ینان ےکی ہے۔ مباہدہ قادہ اور ان الیگ ح کے ہیں : الج کش بقبطر کم وفنہ مر کے معمی ہیں نازواد اکے ساتھ یی کھاتے اور تھا تے ہہو تۓ چنا“ اتل کے ہیں :ابد فلا مد ھاو ق راو ك۵ ور تکا اپنے ہار اور اپنے بُندے اور اپناگلا نما یا ںکرنا“۔ الیمردکا قول ے : ان تتبدیی صن ماس خھا با یب مات“ ب کہ عورت اپن وہ مان ظاہ رک دے جو نکو اسے چھپانا چا بیے۔“ ایوعبید ہکی تفبی ہے :ان ق صن مھا “ھا اتسن ہج ہہ ش9 ال جالی۔ ”نی کہ عوارت اپنے تع مباس کے جس بکو ہماپا لککرے جس سے مر دو ںکو ا کی طرف رخبت ہو“
ایی تکالغظ ق ران ید جس اس متام کے علادہ تین تہ اور استعمال ہو اہے۔ ایک ء آل عمرا نکی آبیت ۵۳ا لہ جہاں ای کی راو یش لڑنے سے گی انے والوں کے متتعلق فرما گیا ےک وہ ” ال کے بارے میں جن کے علاف عابلیت کے ےمان رستت ہیں۔ “ دوسرے صورہ ماکدہء آبیت ۵۰ جس جہاں خداکے اقانون کے ہیا می اور نون کے مطابقی اپنے مقدما تک فیصل کر انے والوں کے متعلق فرمایاگیا” کیاد١ جابای تکا فیصملہ جاجے ہیں۔“ تیسرے مورء رک آبیت ۲٦ یل جہا ںکڈا رمک کے اس ش لکو” حبیت جاہلیہ “ کے لف سے تی رک ایا ےکہ ایہوں نے شض تحعض بک بنا
پر مسلمافو لکو عمردن ہکرنے دیا۔ عدیث مل اتا ےکہ ایک مرحبہ حضرت ابو الد ردا ون ےعسی سے چھکٹڑاکرتے ہوئے ا ںکو ما لکیا گی دے دگی_۔ رسول اور صلی الشعلیہ و سلم نے خناتفرمای” تم یس اھ یکک حاہلیت موجودہے“ ایک اور عدیٹ بی ےک حضونے فرمایا” خی نکام جات کے ہیں۔ دوسروں کے نسب پ رت نکر ناءستارو ںک یگر دش سے فال لیناء اور شردول پر وج کرنا“۔ ان تمام استعالات سے یہ بات دا ہو جائی ےکہ جا یت سے خمراداسلا مکی اصطلاع میں ہر وو طز ُل سے جو اسسلا می تیب و ثحافت اور اسلا می اخلاقی و آداب اور اسلائی ذہنیت کے غلاف ہو- اور جایّت اوٹی کا مطلب وہ بر ائیاں ہیں جن مس اسلام سے پل لے عرب کے لوگ اور دنا پھر کے ووسرے لوک متا تھے_ ال تق رج سے ہی بات وا ہو بائی ےکہ اللہ تالی جس ط رز مل سے عورف کور ہکناچابتاہے دوا کا اپنے مس نکی مال کرت ہو ۓگھروں سے باہرپکلناہے۔ ووا نکو ہدایت فربائا ےکہ اپنےگھمرول می لک ککر رہ مکیو ںکہتخہارا اص٥ لکا مگھ میس ہے ش رک اس سے باہر۔ لین اگ باہر کل ےکی ضرورت ڈییی نے اس شان کے سات نہ لو جس کے ساتھھ ساب ڈور جابیت میس عور یں لاک نی تہیں۔ بن شف نکر لاہ چرے او سم کے شس نکوز یب وزبینت اور ہچست لباسوں یاخریاں لباسوں سے نمایا نکر ناء اور نازواداسے چلنا ایک مسلم معانشر ےکی عو رتو ںکاکام نیس ہے۔ یی حجاہیت کے طور ری یں جو اسلام میس نیس چل سک ۔ اب یہ بات ہ تی خودد کچھ سکیا ےک جو شکافت بمارے انا را کی جارجی٤ے دہ ت رن کیاروسے اسلا مکی شافت ہے با حا لی تک شافت۔ البتہ اگ ہکوکی اود ق رن جمارےکاد فرمائوں کے پا آمگیا سے جس سے اسلا مکی میہ خ و کال یکم مسلمانوں یس پیل فی جار ہی ہے بات دو رکی ے۔
مُرَڈالکشزاب حاش بر:50
( ۵۰)۔ جس سیاقی وسباق می بہ آیت داد ہو گی ہے اس سے صاف ظاہرےکہ بیہاں ائل البیت سے تر انی صلی الل علیہ وس مکی ہییاں ہیں۔ کی وہ خطا بکا آنمانز بی مانماءا می سے الفاط سے کیاگیاے اورہا ٹل ما بعد ری تقر میں ودی خاطب ہیں۔ علاددبر میں ” ال البیت“ کالفا ۶ بی زان میس ٹیک انی معنوں میں استعال ہوجاسے جن میں ہم ”گھ روالوں “ کا اف و لے ہیں ء اور اس کے موم می ںآ یکی دی اور اس کے بے ۵۹ و کت ھ2 ال نمانہ“ کا اف اکوکی نی بولا۔ خود ق رن مجر یں بھی اس مقام کے سوادو رید متقامات پ ت یرب لفظ آ ا اور دووں تیلیہ اس کے ملف ہوم میس یىی شائل ء بلنہ مقدم ہے سوہ ہو میں جب فرش 000 یں تو ا نکی اہلیہ سے ش نکر تج کا ا ظا رک کی ہی کہ بھلا اس بڑھاپے مس جمارے پال بی ہکیسے ہ گا۔ الس پہ فر کیٹ رغ"الل وکا" من یت کیاتم الد کے امیر تج ب کرک ی ہو ؟ ںگھ سے لوگو تم پر و ای دی رحمت ہے اود ا سکی رکیں ہیں۔ “ضور؟
فص میں جب حفرت موک ایک شی رخوار ےکی حیشیت سے فرعون سک ےکھ میں کے یں اور ف عون یا یوئ یک کسی ایی ای علاش ہوقی ے ۲ دودث یہ پی نے تحطرت موم یی بن اک ہکبتی یح ہوگ ال ہیکذ وگ یی ت یں ای ےگھروالو کاہتہ دوں جو تمہارے لے اس ےک پر و رکاذ یش“ 'ن مارو ا رآ کات رکا رق اق تن ات وت رآ ےک فی صلی اللد و سم کے ائل بیت مشش آ پکی ازواج مط پر ات بھی دا خل ہیں اور آ پکی اولاد جھی۔ بللہ زیادہ جج بات مہ ےک ہی تکا اص خطاب ازوالعے ے اور اولاو ہوم لف سے اس میس شثائل قراد ال ہے۔ ای بناپ بن عباس اود شردوبین زجیر اور شر م کے ٹی کہ ا آبیت میں الل لیت سے مراداز واج الفی صلی علیہ وسلم ہیں۔
2 اٹل الابیت“ کالفا صرف ازواع کے لے استتعال ہو اسے اور اس میں دوس راک وگی داخحل نیس ہو سکناء تہ بات بھی غلی ہو گی صرف بپی نمی ںکہنگھروالوں “ کے امیس آد ھی کے سب ابل و عال شائل وت ہیں بللہ بی صلی علیہ وسلم نے خودت رف رمائی ےکم
دہ ھی شائل ہیں۔ ان الی حا مکی ردایت ےک حضرت عائزے ایک مر ہبہ حضرت می کے متحلق پد گان ان ہوں نے فرمابا: تسا ءلنی عن ر بل کان من اح النائس ال ر سول لیر صلی اللہ علیہ و لم وکانت تحت ابضۃواحبالڑاس الیہ۔ ”تم اس تخس سے متحلق پو پت ہوجورسول اور صلی الل علیہ و سکم کے توب تربین ال وگوں میں سے تھا اور ج سکی بیو گی حضمو کی دو یئی تی جآ یکو سب سے بڑح کر محبوب ھی “ اس کے بعد حطرت عائکش" نے یہ واقعہ نا کہ حون حرت عیاور انور صن اور تسین ری اٹ مکوبلایااود ان پر ای ککپڈاڈال یور ڈعافربائی امو اعل بی ٹیوٹ مخ رالجس و عم تح رآ خدایای می رے ال بت لی ء ان سےگن گی دودو ہکر دے۔“حفرت حائ یف ماق ہی کہ یس نے عرض کیا می بھی آپ کے ائل بیت یش سے بہوں ( نی یہ بھی ا سکپزے میں داخ لک کے مبرے من میں دعافرماۓ )۔ حضو نے فر مایا تم الیک رہدہ تم نوہوبی۔“ اس سے لے لت مو نی ڑتآوا رک مسسلم تہ بذریی۔ ام ء این جقریرء حاکمء تی وغیر دمح نشین نے انوسعید ندرک ء نطرت انرڈ حفرتت آئع اٹ ححضرت ولہ ین شع اور تح دوسرے صا سے أق لکی ہیں جن سے معلوم ہوا ےک می صلی القدعلیہ و صلم نے ضر شی ا و سے دونوں صاتبزادو ںکو اپنا اٹل البیت قرار دیا۔ الین ان لوگو ںکاخیال خایدے جو ان ضرا تکو اس سے خمار نج مہ رات ہیں۔ سی طرح ان لوگو ںکی راۓ بھی خللط سے جن کور پالا اعادی کی جفیاد پر ازواخ مطبر ا تکو ال البیت سے مار شھیبراتے ہیں اول و جو چز وس کا ین من ین کے مل پر رد می سکیا جا سکتا۔ دوسرے' خووان اعادی ثکا مطلب بھی وہ یں سے جو ان سے کا لا جا راہے۔ ان یں سے لص روایت می جو یہ بات آ لیب کہ حضرت عائش اور حضرت الخ سل یکو نی صلی ال علیہ وسلم نے اس چادر کے نے خی لیا جس میں جحضسور نے ان چیاروں اصعوا ٹکو لیا تھا“ ا سکا ہہ مطلب مل کہ حور نے ا کو ابنے نگم والوں “ سے ارح تمرار دیا تھا بللہ ا ںکا مطلب بی ےک یدیاں فو ئل ببیت میں شائل یں ہیک دکہ ق ران نے اٹ یکو خاط بکیاتا لین تضمو کو انریشہ ہو کہ ان دوسرے اصحیاب کے متعلق اہر ق ران کے لھاطط ےک یکو یہ خلط شی شہ ہو جا ےکہ مہ ال ہبیت سے ار نع ہیں اس لیے آپ نے تص مکی ضرورت ان کے جن یش موس فر مائی ن کہ از واج صعلم رات کے می میں۔
ای کگر وونے ا سآبی تکی تی می صرف اتنابی تم خی سکیا ےکہ از واج مم ال تکو” ال الایت “ سے خمار حکھر کے صرف حضرت مل یو فا اور ا نکی اولاد کے لیے اس لف کو ام کر دیاءبکنہ اس پر مزیدستم ىہ مگ کیا ےکہ اس کے الفاظ ” الل نہ چابتا ےک تم س گن دگ یکو دو رککرے ار یں پوری رم پا کگکر دے“ سے یہ مہ کال لاہ ححضرت فا اور ا نکی او لاد انمیاہ شیہم السلا مکی طرح موم ہیں۔ ا نکاکہنایہ ےن کی سے ھمراس خنطا او رگناہ سے اور ار شاد ال یکی رو سے بہ ائل البیت ال سے پا کک د لے گے ہیں۔عالاکمہ آیت کے الفاظ یہ کیل ہی کہ تقم سےگن دی دو کر دئیکئی اور تم الیل پا ککر دی گئ۔ بکنہ الفاظ می ہی کہ الڈ تم سےگن رگ یکو ڈو رک ناادر سمیں پا کک دیناچابتاہے۔ سای وسباقی تھی یہ نیس بتاتاکہ بیہاں منا قب اٹل بیت بیا نکر نے مقصدد ہیں بکنہ یہاں قوائل بی تکونشصیح تک یگئی ےک تم فلا کا مکرو اور فلال امت کرد اس لی کہ اللھ ہیں پا کک ناچابتاہے۔ بالغانو دنر مطلب ہہ ہ ےک تم فلال دی اخقیا کرو گے تو کی کی نقت ہیں نصیب ہ گی رنہ ہیں۔ حاہم 1ک نییعت شنر لٹ ........ نف رک شی رکا مطلب ب لیا جا ےک اللدنے ا نکو متصو مکر د اچ رکوئی وجہ نہیں کہ وضواور تل اوت مکرنے وانے سب ملمائو ںکومعصوم نہمان لیا ا ےکیو کہ ا نکی متحلق بھی الہ تعالی فری ا ہے کن ری نو سک وم حم ” گرال بنا ےک ہت مکویا ککرے اوداق فحت تم یرقرامکروے“ (الیائرہ- آیت٦)۔
2
مورَڈالکشزاب حاشیہ ہر:51
(۵۱)۔ اصل میں لفظ ای استعال ہو اے جس کے دو معتی ہیں :” پا رکھ و“ اور“ پیا نکر و“ چیہ معن کے اط سے مطلب بہ ہ ےک اے نی کی بیو تم بھی اس با تکوفراموش نکراک تہاراکصر دہ ہے چہاں سے دنا رکوآیات ال اور مت ودانائ یکی لیم دئی اتی ہے :اس لے تہاری وہ دارگی ڈگ مخت ہے ۔کیں الیانہ ہ کہ ا یگھ میس لوگ جاہلیت کے ممونے وین گیں۔ دوسرے مع کے لھاطا سے مطلب می سےککہ نکیا ہیدہ جھ چھ تم شف اور دیھو اسے الوگوں کے سان بیا نکر فی رہد ءکیوکلہ رسول کے ساتھ ہر وق تکی محاشرت ے بہت کا ہرایات تہارے ص م یش ایآ کی جو تممہارے سواکسی اور ذد یہ سے لوگو ںکومعلوم نہ ہیی ںگی۔
ال آیت میں دو چیزو کا ذک رک اگیاے۔ ایک آبیات القد دوسرے صحکست۔ آیات ال سے راد تاب ال رکی آیات ہی ہیں ۔ گر حم تکا لف وس سے جس میں دو قمام دااک یکی اتی آحائی ہیں جو نی صلی او علیہ و سکم لوگو ںکو سکعاتے تے۔ اس لف کا ا طلا کراب ارڈ کی تلیمات پیر بھی ہو سا سے مر صرف انی کے سماتھ ا سکوا صکر دی ےک یکوئی ولیل نیس ہے ق رآ نکی آزیات خنانے کے علا وو جس سکم کی تعلیم نپی صلی ال علیہ ول ابق می رمت, پاک سے اور اپنے ارشادات سے دنت شی وہ بھی لا عوالہ اس می شال ہے مت لوگ صحض اس بنیادی دک ہآیت میں ماج لاو تکی جاک ی ہیں کا فا استمال ہو اس یہ دو یکرت ڈی کہ آیات الد اور عکمت سے ٹر او صرف خرن سے کی و کہ ناوت“ کا لفظ اصطلاحاأ ق رآ نکی حاوت کے لیے فصو سے لان یہ اتد لال پالگل غلط ہے۔ ملاوت کے لف کو اصطلاح کے طور پر ق رآآن تاب الیل کی حلاوت کے لیے محخص وص کر و یناور لوگو ںکا نل سے ق ران میں اس لف کو اصطلاح کے طور پر استمال نی سکیاگیا سے مور یرہ یت ۲٭ ابی لفظا چاد کے ان مرن کے لیے استما لک اکاے جو شیاطین ححضرت سلرا کی طرف مضسو بک کے وو ںکوسناتے جھے۔ وش اپانلو ا مھ 7- مکی ” أنہوں نے رو یکی اس چزکی ج سکی علاو تکرتے تھے (لتنی صے عناتے تھے )شیا لین سلیما نکی باد شا یکی طرف مفسو بک کے“ اس سے صاف ظاہر ےکہ ق رن اس لف کو اس کے لو بی مصعمی یں استوا لک ا ہے ۔کتاب ادڈ کی آیات خنانے کے لیے اصطلاح] عخص وص یں کرت
مرَڈالکخراب حاشہ بر:52
(۵۴)۔ الد اطیف سے یشنی فی او ںکک ا کا علم کے جا تاہے۔ اس سے کوگئی چزجیی نہیں رو ستی۔
مُرَڈالکخراب حاشی بر:53
(۵۳)۔ چیہ بر اگراف کے بعد اہ مضمون ار شاد فر اکم ایک لیف اشمادہ اس اع رکی طر فک دیاگیا ےک اور زوا “طبر ا تکو جو ہدبیات دی گی ہیں وہان ے لیے اص نہیں ہیں پللہ مسلم محانشر ےکو با موم این ےکر دا ہکی الا انی بد ایات کے مطا کرک چاہبیے۔
مرَڈالنکخڑاب حاشیہ بر:54
(۵۳)۔ یی جنپوں نے اسلا مکو اپنے لیے ضابطے حیا تکی حیشیت سے قجو لک لیاہے اور یہ ٹ ےکم لیا ےکلہ اب دہ أ یکی پروی یں زندگی بسمر ککریی گے۔ دوسرے الفاظہ ٹیل ہ جن کے اندر الام کے دپے بہوتۓ رق گکر اور طرز زندگی کے خلا فکسی ف کی مرا حمت باقی نہیں ردی ے۔بللہ وہ ا لک اطاعت اور اتا پکیاراہ اختیا رر گے ہیں۔
21
مرَڈالکخڑاب حاشیہ بر:55 (۵۵)۔ یجنی ج نکی ىہ اطاعت شض ظاہ ری نیس ہے۔ بادل ناخ استہ میس ہے مبللہ ول سے وہ اسلام یی ر جنمائ یکو عق مات ہیں۔ ا نکا یمان می ےک کر وع لکاجوراست ق رن اور جہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھااہے ودخیاسیدھاادر ج راستہ ہے اود اس ےکا رئیش جوارگی فلاج ہے۔ جس چک اللہ اود الس کے و سولی نے نل طکہہ دیاسے ال نکیا ایقی را مبھی مکی ےکم دونقبۃً اط ے ء اور جے ایند اور اس کے رسول نے عق کہ دیاسے لن کا اپناول و داغ بھی اسے برح بی پش نکرجا ہے ان کے لٹس اور ذہ نکی حالت ىہ نیش ےک ق رن اور مت سے جو عم حابت ہو أے وہ نامناسب کیگیے ہوں اور انس گر میں خفلطاں د چیا ر ہی سک ہی رح اسے بد کہ ایق رائے کے مطاِقء اڈنا کے لت ہو ۓ ط ربیقوں کے مطا بی ڈڑھال بھی دیاجاۓ اور یہ الزام بھی اپتے سرن لیا جا ۓکہ جم نے عم خدااورر سول میں تم مک ڈالی ہے حربیث میں بی صلی ال علیہ وسلم اما نکی کچ کیفی تکووں بین فرہاتے ہیں: ذاقی مال مان من ر شی ہہ او الا سلام دنا صن مل ابا نکا لت ہ وگیاوہ شف جوراشی ہداس بات پ ہشدخ ا کارب ہو اور الام بھی ا ںکادین ہو اود شم بی اس کے رسول ہوں_ اود الیک دوس کی حدیث ٹیل آپ ا سک نت رو ںکرتے ہیں۔ لا صن اح ہکم تی کون عو او تماما نٹ ھپ (شرح انت می ںکوئی شف مومن نییں ہو تاج بت ککہ ا سکی خوایش نٹس اس چچ زکے ملع نہ ہو جاۓ جضے مس لایاہوں۔
سُورَّالَجزا مُڑآپ عاشیہ نم ر: 56 (۵۹)۔ بجی وہ شس ما نکر رو جات وانے بھی نیس ڈیں بلمہ مل اطاعح تکرنے والے ہیں ا نکی می عالت نی ےکلہ ایماند ارگی کے سا عق تو أئی چے کو رافیں جس کا اللہ اور اس کے رسولع نے عم دیا ےگ جھاا ا سکی خلاف درز یک یں ء اور ابق مخلصانہ راۓ میں فان س بکامو ںکوٹر اتی میھت ر ہیں جن ہیں الد اور اس کے رسول نے ش کیا سے انی گیز ن دی یس ا راب | ٹیک رتے لے جائیں۔ مُرَڈالکخراب حاشی فبر:57 ے۵ میتی ات یگفتار بی بھی جے ہیں اور اپنے معاللات یں بھ یکصرے ہیں۔ مجھوٹ, فریبہ یق ء دا بازیی او ھئل بے ا نکی زندرگی بیس نہیں پا جاتے۔ ان ای زان دی بولقی سے بے اُ نکا تیر کا جا تاے۔ ووکام وی اکر تے ڈیں جا ابیماند ادگی کے ساتھ الع کے نز دریک راس وص در اقت کے مطاب ہو جا ہے اور جس سے بھی و کو کی معاط ہکرت میں دیانت کے سات ھکر تے ہہیں۔ مرَڈالکشزاب عاشی بر:58 (۵۸)۔ یجن غحدااورر حول کے جتاۓ ہو سید ھھے رات پر نے اور خدا کے وی یکو اخ مککرنے میس جو مشکات بھی یی آئھیں جو خطرات بھی ور پیٹ جہوںج ھتکھیفیں بھی اٹھائی پڑیں اور جن نقتصانات سے ھی دو چار ہو نا پڑے ءا نکا ریخات قل می کے سا مقا بل ہکرت ہیں ۔کو کی خوف, کوئی ان اورخ اہشات نأ سکاکوئی تقاضاا نکوسی رع راسے ہلاد نے می سکامیاب غئیں ہو تا مرَڈالکخڑاب عاشی بر:59 (۵۹)۔ یجن ووگیٹ اور اکلبار اور خرور ٹس ے خالی ہیں۔ دوس میق ت کاپ راشحور و احساس رھت ہی کہ ہم بنادے ہیں اور بن گی سے پالا تر جماری کوکی حیشیت نی ہے۔ اس لے ان کے ول اور تیعم دونوں بی الد کے آ کے جلھکہ ر بے کہیں۔ ان پر خد اکاخوف خااب ر تا ہے۔ الع سے 0-یب
ظاہ نی ہو ماج اپقی بڑائی کے کحمنٹر میس مبلا اور خر اسے بے خوف لوگوں سے ظاہ ہو اکر ما ے۔ تر تی کلام موا رکھا جا و ملوم ہو ما ےک ییہاں لاس عام خد اترساندرو کے ساتھ خمائص طورپبر””خشوح“ سے راد مازہ ےکیو ںکہ اس کے بعدبی صدرتے اور روز ےکا ذک رک اگیاے_ مرَڈالکخراب عاشیہ فبر:60
(۹۰)۔ اس سے تھر اد صرف فرح کو اداکر نابی نیس ہے بللہ عام خر ات بھی اس میس شال ہے رادیہ ےک دہ اڈ کی راو شس کھلے دی سے اپ مال صر فکرتے ہیں۔ الل کے بنلدو کی مد دکمرنے بی اتی حد استطاع تک س ہکوکی دربن ہی ںکرتے ۔کوکی یم ہکوکی ببارءکوکی مصیبت زدد کوگی ضعیف و مع ور ءکوئی خیب و تاج آدی ا نکی ہستیوں میں دب ری سے محثروم نیس دہتا۔ اور الد کے دی نکوس ربلن دکر نے کے لیے ضرورت بی آجاے قذاس پر اپ مال ماد ہے میں دہ بھی کٹل سےکام ننیں لیتے۔
مو رڈ ال شاب عاشیہ ر:61
(۱)۔ اس میں فرض اور نفل دوٹوں شی کے روزے شائل ہیں۔
مرڈالکخراب حاش بر:62
(۴٦)۔اس میں دو مطہوم شال ہیں ایک میک دہز ناس پر ہی زکرتے ہیں۔ دوس رے کہ دوب گی و شریائی سے اقا بکمرتے ہیں۔ ا کے سماتھ بی بھی بجد یناج ہی ےک بر گی وع یالی صرف ای چزکانام یں سے مک ہآ ٹیل پاس کے خی پالئل ننگا ہو جاے۔ بل ایال ال پیہننا کچھ بر گی ھی سے جھ اتقار بی ہ کہ عم اس میس سے چھلکناہوء یا تطاغچست ہ دک( مکی ساخخت اود اس کے نیب دفر از سب أس میں سے نمایاں نظ رآتے ہوں۔ مرَڈالکشزاب عاشیہ بر:63
(۷۳)۔ او رک ھکقزت سے یا دکرن ےکا مطلب ىہ س ےک آدٹ یک ذبالن پر ہر وقت زن گی کے ہر معالے می ںین سی ط رب خداکانام آنتارہے۔ یہ کمیفیت آدئی پر اس وف ت کک طاری نی ہو ج ب کک اس کے ول میس ند اکا یال شا سکر شر ہگیاہو۔ اشمانع کے شحور ےگ رکر انس کے حت حور اور لا شورکک میں جب یہ خیا لگہرا ترجا تا ہے جب ہے ال کامیہ عال ہہو تا ےک جوھکام اور جو بات ھی د ہر ےگا اس میس اکا نام ضرور آے گا ۔کھا ۓ گان مم الڈ کہ ہک رکھاۓ گا۔ فارغ گان مد نڈد کے گا۔ سوتۓ کاو اٹ کو یا دک کے اور ےگا اد یکا نام لیے ہوئے۔ بات یت ٹس ہار ہار ا سکیا ز بان سے سم ال ءاحمدللدءماشاء ال اور اے ط رح کے دوصرےکلرات لک رہیں کے ۔ اپنے ہر موالے یس الد سے مد دا گے گ۔ ہر نقت لے پر ا سکاشحکراداکر ےگا۔ ہ رفت آنے پر ال سکیا رحم تکاطابگارہ وگا۔ مشکل میس اس سے رجو حکمر ےگا ہ رٹ ائ یکا مو سا نے آنے پر اس سے ڈرے گا ہ تیور سرزد ہو جانے پر اس سے معانی چا ے گا۔ ہرعاجت یل آنے پر اس سے دعاماکے گا۔ خر ضأ ٹحت یت اور دنیا کے سار ےکام کرت ہوۓ ا کاو ظیشہ خد اب یکا ذکر ہوگا۔ یہ چیزدد مقیقت اسلائی زن دگ یکیا جان ے۔ دوس رکی چشئی بھی عبادات ہیں ان کے لیے بہرعا کوک وت ہو جاے جب وہاداکی جائی یں اور انیل اداکر سے کے بح آدئی فارغ ہو جا ہے۔ لان یہ دہ عیادت ہے ج ہروقت جار رہق سے اود بی انسا نکی زن درگ یکا تخل ر شتہ الد اور ا سکی ہن گی کے ساتھ جو ڑے ری ہے۔ خودعبادات اود قام دب یکاموں می بھی سان اکا چچز سے پڑ لی ےکک آآدب یکا ول جھضل ون خاص اعمالل کے وفت ہی نیس بللہ ہمہ وفت مد اکی طرف راخب اود ا کی ز پان دائم] اس کے ذکر سے تر رے۔ یہ عالت انسا نکی زندگی میس عبادات اور د پٹ یکام میک أسی طر) پر وان چچڑ ھت اور نشوومابات ہیں جس ط رح یک و دا میک اپنے مز اح کے مطا اتی آب دہوایٹل أگاہداہ۔ اس کے ب رحس جو زن گی انس داگی کر شید ات نی ہو ااس میس مححضل عنم وص او نما میس پا منص وص مو اق پر
اداکی جانے والی عبادات اود د بٹی خد ما تک مثال اس و در ےکی کے جو اپنے مرا سے ملف آب وہو ائیں لگا گیا ہو اور تن با با نکی خمائص خر گی رٹ یکی وجہ سے پل دباہد۔ ای با تکو نی صلی الد علیہ و سلم ایک حدیث مل لوں دا سے ف مات ہیں:
عنںیعاؤین اٹس الجھت یع ن رسول الل صلی الل علیہ ؤسلم ان رجلًماءلہ ای المجاخنین اعظو اج رآیا رسول اللہ قال اکفرھیرللہ تعالٰنٰد کر قال ا الصایمین اکفراجرا؟قال اکثر ھم لہ عژو جل ذ کرام ذکر الشلوة وال زکو ة والحخ سالقَىنَ قۃکل ذِلک یقول ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ دسلح اکر ہو للہ ذکر(مند اھر“ معاؤبن الس نی روبی تکرتے ہی ںکہ یک تن نے رسول اللد صلی الد علیہ و صلم سے لپ چھاکہ یا رسول اللہ چھادکرنے والوںل یل سب سے بڑ ھکر اجھ پانے وا اکوان سے ؟ فرمایاجھ ان میس اللہ تعال کو سب سے زیادہ یا دکرنے والا ہے۔ ال نے عم رخ سکیاروزہو کین والول میں سب سے زیادہ اج رکون پا گا ؟ فرمایاجھ الن شی سب سے زیادہ ال کیا دکرے والا ہو۔ پچھ راس تن نے اسی طرح نمازہ زکو تارج اور صدرقہ اداکرنے والوں کے متعلق بد پچااور تضورنے پر ای ککا نی جو اب دیاکہ ”جو الل دکوسب سے زیادہیادکر نے والا ہو“ مه الکزاب عحاشیہ بر:64
(۹۴)۔ ا آیت می یہ بناد گیا ےکہ اللد تعاٹی کے ہاں اصل قدرد دق گن اوصا فکی ہے۔ یہ اسلا مکی بیادگی تر ۷910682 >[88) یں جنمیں ایک مقھرے کے اندر سمیٹ دیاگاہے۔ ان قد روں کے اط سے مرداور عورت کے در میا نکوگی فرق غییس ہے شمل کے لواط سے تو بلاشیہ وولوں صنفو ںکا دائر6کار ایگ ے۔ مردو ںکوزندگی کے چو شجوں می کا مک ناے اور عو رو ںکو ہگ اور شمبوں یل اگ اوصاف دوٹول ٹں ککماں موجودہوں و اللہ تقاٹی کے پال دونو ںام رحب کال اور دونو کا اجب ابر ہوگا۔ ا ںلیاط سے الع کے رح اور اج می سک وکی فرق نہیں پڑے کہ ایک نے چو لھاچگی سیبالا اور دوسرے نے خلاف تکی مند پر یٹ ھکر احکام شربعت جادکی کے ء ایک نےگھ میس چے پانے اور دوسرے نے میید ان جنگ میں جاک الد اود انس کے وین کے لیے ان لڑاتی۔
1